گرد[2]
معنی
١ - مدور، گول۔ "بادشاہ نے انگوٹھی مٹھی میں لی اور پوچھا، کہو بابا ہمارے ہاتھ میں کیا ہے? کہا کچھ چیز گردسی ہے۔" ( ١٨٠٢ء، نقلیات، ٦٥ ) ١ - آس پاس، اطراف، اِدھر اُدھر، چاروں طرف۔ "اس شہر کے گرد دائرہ در دائرہ تحیرات بنے گئے اور قاری کو . دیکھنے کے موقع فراہم کئے گئے۔" ( ١٩٨٧ء، اردو ادب میں سفر نامہ، ٤٨ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے فارسی سے اردو میں داخل ہوا اور بطور متعلق فعل اور گا ہے بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مدور، گول۔ "بادشاہ نے انگوٹھی مٹھی میں لی اور پوچھا، کہو بابا ہمارے ہاتھ میں کیا ہے? کہا کچھ چیز گردسی ہے۔" ( ١٨٠٢ء، نقلیات، ٦٥ ) ١ - آس پاس، اطراف، اِدھر اُدھر، چاروں طرف۔ "اس شہر کے گرد دائرہ در دائرہ تحیرات بنے گئے اور قاری کو . دیکھنے کے موقع فراہم کئے گئے۔" ( ١٩٨٧ء، اردو ادب میں سفر نامہ، ٤٨ )